Fitnah Will Come Like Ocean Waves



Fitnah Will Come Like Ocean Waves

Fitnah Will Come Like Ocean Waves

Hudhaifa reported:

We were one day in the company of ‘Umar that he said: Who amongst you has preserved in his mind most perfectly the hadith of Allah’s Messenger (ﷺ) in regard to the turmoil as he told about it? I said: It is I. Thereupon he said: You are bold (enough to make this claim). And he further said: How? I said: I heard Allah’s Messenger (ﷺ) as saying: There would (first) be turmoil for a person in regard to his family, his property, his own self, his children, his neighbours (and the sins committed in their connection) would be expiated by fasting, prayer, charity, enjoining good and prohibiting evil. Thereupon ‘Umar said: I do not mean (that turmoil on a small scale) but that one which would emerge like the mounting waves of the ocean. I said: Commander of the Faithful, you have nothing to do with it, for the door is closed between you and that. He said: Would that door be broken or opened? I said: No, it would be broken. Thereupon he said: Then it would not be closed despite best efforts. We said to Hudhaifa: Did Umar know the door? Thereupon he said: Yes, he knew it (for certain) just as one knows that night precedes the next day. And I narrated to him something in which there was nothing fabricated. Shaqiq (one of the narrators) said: We dared not ask Hudhaifa about that door. So we requested Masruq to ask him. So he asked him and he said: (By that door, he meant) ‘Umar.

حذیفہ نے بیان کیا:

ہم ایک دن عمر رضی اللہ عنہ کی صحبت میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے فتنہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو اپنے ذہن میں سب سے زیادہ محفوظ رکھا ہے جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ میں ہوں، اس پر آپ نے فرمایا: تم دلیر ہو (یہ دعویٰ کرنے کے لیے کافی ہے)۔ اور مزید فرمایا: کیسے؟ میں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کسی شخص کے لیے اس کے اہل و عیال، اس کے مال، اس کے نفس، اس کی اولاد، اس کے پڑوسی (اور ان کے تعلق میں جو گناہ ہوں) ان کا کفارہ روزہ، نماز، صدقہ، نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنے سے ہوتا ہے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری مراد (چھوٹے پیمانے پر ہنگامہ) نہیں ہے بلکہ وہ ہے جو سمندر کی تیز لہروں کی طرح ابھرے گی۔ میں نے کہا: امیر المومنین، آپ کا اس سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ آپ کے اور اس کے درمیان دروازہ بند ہے۔ اس نے کہا: کیا وہ دروازہ ٹوٹ جائے گا یا کھولا جائے گا؟ میں نے کہا: نہیں، یہ ٹوٹ جائے گا۔ تو آپ نے فرمایا: پھر پوری کوشش کے باوجود بند نہ ہو گا۔ ہم نے حذیفہ سے کہا: کیا عمر رضی اللہ عنہ کو دروازہ معلوم تھا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، وہ اسے (یقینی طور پر) اسی طرح جانتا تھا جیسا کہ وہ رات اگلے دن سے پہلے ہے۔ اور میں نے اس سے ایک ایسی بات بیان کی جس میں کوئی چیز گھڑ نہ تھی۔ شقیق (ایک راوی) نے کہا: ہم نے حذیفہ سے اس دروازے کے بارے میں پوچھنے کی ہمت نہیں کی۔ چنانچہ ہم نے مسروق سے درخواست کی کہ اس سے پوچھ لیں۔ تو انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا: (اس دروازے سے اس کی مراد عمر رضی اللہ عنہ تھی۔

قَالَ قُلْتُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ “‏ فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَنَفْسِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصِّيَامُ وَالصَّلاَةُ وَالصَّدَقَةُ وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْىُ عَنِ الْمُنْكَرِ

Reference : Sahih Muslim 144d

More: Life Of Muslim | Muslim Life | Muslim News | Islam News | Quran | Hadith

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *