Daily life can feel permanent because responsibilities, plans, possessions, and routines fill our attention. The Prophet Muhammad (peace and blessings be upon him) taught a different perspective: live in this world like a stranger or a traveller. This does not mean abandoning work or family. It means remembering that the journey has a destination.
The Prophetic Image of a Traveller
Abdullah bin Umar reported that Allah’s Messenger (peace and blessings be upon him) took him by the shoulder and said: “Be in this world as if you were a stranger or a traveler.” (Sahih al-Bukhari 6416)
A traveller uses what is needed but does not mistake a temporary stop for a permanent home. The hadith invites us to benefit from lawful worldly things without allowing them to control the heart. Our work, homes, and possessions remain responsibilities and blessings, yet they should help us obey Allah rather than distract us from Him.
Purpose Makes Ordinary Days Valuable
Remembering the temporary nature of life gives weight to ordinary choices. A prayer offered on time, honest work, gentle speech, care for family, and quiet charity may seem small, but they shape the direction of the journey. Purpose is not limited to dramatic achievements.
This perspective also changes how we use success. Instead of treating status or wealth as final measures, we ask how they can serve good. Knowledge can be shared, income can support dependants and charity, and influence can be used fairly. Worldly ability becomes a trust rather than a reason for pride.
Do Not Delay the Good Within Reach
The same narration records that Ibn Umar would advise a person not to assume that evening guarantees morning or that morning guarantees evening. He also advised taking advantage of health before sickness and life before death.
This reminder is not a call to panic. It encourages useful action without unnecessary delay. We can repent today, repair a relationship, fulfil an obligation, learn a needed lesson, or begin a manageable good deed. Waiting for a perfect season may cause a valuable opportunity to pass.
Travel Lightly Without Neglecting Duties
A purposeful traveller avoids carrying what obstructs the road. In daily life, this can mean reducing resentment, waste, unhealthy comparison, and commitments that leave no room for worship or family duties. It can also mean reviewing what consumes our time and choosing what genuinely benefits faith and character.
Detachment does not require rejecting comfort or lawful enjoyment. It means that the heart remains able to obey Allah when circumstances change. Gratitude in ease, patience in difficulty, and moderation in consumption help a believer keep moving steadily.
Prepare for the Destination Each Day
Begin with obligations and add good deeds that can be sustained. Keep accounts with people clear, apologise when wrong, and avoid postponing responsibilities. At the end of the day, reflect briefly: what moved me nearer to Allah, what needs correction, and what good can I continue tomorrow?
Conclusion
Sahih al-Bukhari 6416 teaches us to live actively without treating this world as our final home. A traveller plans, uses resources wisely, and keeps the destination in view. By valuing time, fulfilling responsibilities, reducing needless burdens, and doing available good promptly, everyday life becomes a purposeful journey toward Allah.
دنیا کو عارضی سفر سمجھ کر مقصد کے ساتھ زندگی گزارنا
روزمرہ زندگی مستقل محسوس ہو سکتی ہے کیونکہ ذمہ داریاں، منصوبے، سامان اور معمولات ہماری توجہ گھیر لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختلف زاویہ سکھایا: دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی اجنبی یا مسافر ہو۔ اس کا مطلب کام یا خاندان چھوڑ دینا نہیں، بلکہ یہ یاد رکھنا ہے کہ اس سفر کی ایک منزل ہے۔
مسافر کی نبوی مثال
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا کندھا پکڑا اور فرمایا: ”دنیا میں ایسے رہو جیسے تم اجنبی ہو یا مسافر۔“ (صحیح البخاری 6416)
مسافر ضرورت کی چیزیں استعمال کرتا ہے، لیکن عارضی قیام کو مستقل گھر نہیں سمجھتا۔ یہ حدیث ہمیں حلال دنیاوی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتی ہے، مگر دل کو ان کا غلام بنانے سے روکتی ہے۔ کام، گھر اور مال ذمہ داریاں اور نعمتیں ہیں، لیکن انہیں اللہ کی اطاعت میں مدد دینا چاہیے، غفلت کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
مقصد عام دنوں کو قیمتی بناتا ہے
زندگی کے عارضی ہونے کی یاد عام فیصلوں کو اہم بنا دیتی ہے۔ وقت پر نماز، دیانت دار محنت، نرم گفتگو، خاندان کی دیکھ بھال اور خاموشی سے کیا گیا صدقہ معمولی معلوم ہو سکتے ہیں، لیکن یہی اعمال سفر کی سمت بناتے ہیں۔ مقصد صرف بڑے اور نمایاں کارناموں تک محدود نہیں۔
یہ نظر کامیابی کے استعمال کو بھی بدلتی ہے۔ مرتبے یا دولت کو آخری پیمانہ سمجھنے کے بجائے ہم پوچھتے ہیں کہ ان سے بھلائی کیسے ہو سکتی ہے۔ علم بانٹا جا سکتا ہے، آمدنی سے اہل خانہ اور محتاجوں کی مدد ہو سکتی ہے، اور اثر و رسوخ انصاف کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ دنیاوی صلاحیت فخر کی وجہ کے بجائے امانت بن جاتی ہے۔
موجود نیکی کو مؤخر نہ کریں
اسی روایت میں آتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نصیحت کرتے تھے کہ شام ہو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور صبح ہو تو شام کا انتظار نہ کرو۔ انہوں نے صحت سے بیماری کے لیے اور زندگی سے موت کے لیے فائدہ اٹھانے کی بھی نصیحت کی۔
یہ یاد دہانی گھبراہٹ کی دعوت نہیں۔ یہ غیر ضروری تاخیر کے بغیر فائدہ مند عمل کی ترغیب دیتی ہے۔ ہم آج توبہ کر سکتے ہیں، کسی تعلق کی اصلاح کر سکتے ہیں، واجب ذمہ داری پوری کر سکتے ہیں، ضروری علم سیکھ سکتے ہیں یا کوئی قابل عمل نیکی شروع کر سکتے ہیں۔ بہترین وقت کے انتظار میں قیمتی موقع ضائع ہو سکتا ہے۔
ذمہ داریاں چھوڑے بغیر ہلکا سفر کریں
سمجھ دار مسافر ایسا بوجھ نہیں اٹھاتا جو راستہ مشکل بنا دے۔ روزمرہ زندگی میں اس کا مطلب کینہ، فضول خرچی، نقصان دہ مقابلہ اور ایسی مصروفیات کم کرنا ہو سکتا ہے جو عبادت یا خاندان کی ذمہ داریوں کے لیے جگہ نہ چھوڑیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے وقت کا جائزہ لیں اور وہ کام چنیں جو ایمان اور کردار کو حقیقی فائدہ دیں۔
دل کی بے تعلقی راحت یا حلال خوشی کو رد کرنے کا نام نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حالات بدلنے پر بھی دل اللہ کی اطاعت کے لیے تیار رہے۔ آسانی میں شکر، مشکل میں صبر اور خرچ میں اعتدال مومن کو ثابت قدمی سے آگے بڑھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ہر دن منزل کی تیاری کریں
فرائض سے آغاز کریں اور ایسی نیکیاں شامل کریں جن پر قائم رہا جا سکے۔ لوگوں کے حقوق اور معاملات صاف رکھیں، غلطی پر معافی مانگیں، اور ذمہ داریوں کو مؤخر نہ کریں۔ دن کے اختتام پر مختصر غور کریں: کس عمل نے مجھے اللہ کے قریب کیا، کہاں اصلاح کی ضرورت ہے، اور کل کون سی نیکی جاری رکھی جا سکتی ہے؟
نتیجہ
صحیح البخاری 6416 ہمیں فعال زندگی گزارنے کی تعلیم دیتی ہے، مگر دنیا کو آخری گھر سمجھنے سے روکتی ہے۔ مسافر منصوبہ بناتا ہے، وسائل سمجھ داری سے استعمال کرتا ہے، اور منزل کو سامنے رکھتا ہے۔ وقت کی قدر، ذمہ داریوں کی ادائیگی، غیر ضروری بوجھ میں کمی اور دستیاب نیکی کو جلد انجام دینے سے روزمرہ زندگی اللہ کی طرف ایک بامقصد سفر بن جاتی ہے۔
References
Sahih al-Bukhari — Book 81: To Make the Heart Tender (Ar-Riqaq) — Chapter 3: “Be in This World as if You Were a Stranger” — Hadith 6416 (Book 81, Hadith 5)









