Illness, fatigue, sorrow, and distress can make a believer feel weak and uncertain. Islam does not ask people to pretend that pain is easy. Instead, the Prophet Muhammad ﷺ gave believers a reason for hope: suffering endured by a Muslim is not necessarily wasted in the sight of Allah.
A Hadith That Gives Hope During Hardship
Sahih al-Bukhari records that the Prophet ﷺ said: “No fatigue, nor disease, nor sorrow, nor sadness, nor hurt, nor distress befalls a Muslim, even if it were the prick he receives from a thorn, but that Allah expiates some of his sins for that.” The report appears in the Book of Patients, under the chapter “Sickness is expiation for sins” (Sahih al-Bukhari 5641–5642).
This teaching does not erase the reality of pain. It gives pain a spiritual horizon. A difficult hour may still be difficult, but the believer can hope that Allah is making it a means of purification rather than allowing it to pass without reward.
Hope Does Not Mean Denying Pain
Someone who is ill may feel tired, afraid, frustrated, or sad. These feelings should not be used to judge the strength of that person’s faith. The hadith itself names fatigue, disease, sorrow, sadness, hurt, and distress. Its language recognises different forms of suffering and connects them with Allah’s mercy.
Family and friends should therefore offer patient companionship, practical help, and compassionate listening. Telling a suffering person simply to “be strong” can feel dismissive. A better response is to acknowledge the difficulty, make sincere dua, and ask what support would be useful.
Seeking Care Is Part of Responsible Hope
Believing in expiation does not mean refusing appropriate medical care, ignoring serious symptoms, or stopping prescribed treatment without qualified advice. Spiritual hope and responsible action can exist together. A believer may seek professional care, accept help, rest when needed, and still place trust in Allah.
Likewise, the hadith should never be used to make promises about recovery or to blame someone whose illness continues. Its message concerns the spiritual value Allah may place in hardship; it is not a substitute for diagnosis, treatment, or individual medical guidance.
Practising Patience One Day at a Time
Patience during illness often appears in small choices: keeping the obligatory prayers according to one’s ability, speaking respectfully despite discomfort, accepting necessary help, avoiding despair, and returning to dua. On harder days, patience may simply mean taking the next responsible step without giving up hope in Allah.
Caregivers also need gentleness and realistic expectations. They can organise meals, transport, appointments, or household tasks while protecting the patient’s privacy. Quiet, dependable service is often more helpful than repeated advice.
Conclusion
Sahih al-Bukhari 5641–5642 offers hope without minimising suffering. Even the prick of a thorn can become a means by which Allah removes sins. A Muslim can acknowledge pain honestly, seek suitable care, receive support, and continue hoping in Allah’s mercy. Hardship is never something we should romanticise, but through faith it need not be meaningless.
بیماری اور مشکل میں اللہ کی طرف سے گناہوں کے کفارے کی امید
بیماری، تھکن، غم اور پریشانی مومن کو کمزور اور غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر سکتی ہے۔ اسلام لوگوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ درد کو آسان ظاہر کریں۔ اس کے بجائے نبی کریم ﷺ نے اہلِ ایمان کو امید دی کہ مسلمان کو پہنچنے والی تکلیف اللہ کے ہاں لازماً ضائع نہیں جاتی۔
مشکل وقت میں امید دینے والی حدیث
صحیح البخاری میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد منقول ہے، مفہوم: مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، غم، اداسی، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ کانٹے کی چبھن بھی، تو اللہ اس کے ذریعے اس کے بعض گناہ مٹا دیتا ہے۔ یہ روایت کتاب المرضیٰ کے باب “بیماری گناہوں کا کفارہ ہے” میں صحیح البخاری 5641–5642 کے تحت موجود ہے۔
یہ تعلیم درد کی حقیقت کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے روحانی امید دیتی ہے۔ مشکل گھڑی پھر بھی مشکل ہو سکتی ہے، لیکن مومن یہ امید رکھ سکتا ہے کہ اللہ اسے بے اجر گزرنے دینے کے بجائے پاکیزگی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔
امید کا مطلب درد سے انکار نہیں
بیمار شخص تھکا ہوا، خوف زدہ، پریشان یا غمگین ہو سکتا ہے۔ ان احساسات کو اس کے ایمان کی کمزوری کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ حدیث خود تھکن، بیماری، غم، اداسی، تکلیف اور پریشانی کا ذکر کرتی ہے۔ اس کے الفاظ مختلف قسم کے دکھ کو تسلیم کرتے اور انہیں اللہ کی رحمت سے جوڑتے ہیں۔
اس لیے اہلِ خانہ اور دوستوں کو صبر کے ساتھ ساتھ دینا، عملی مدد کرنا اور ہمدردی سے سننا چاہیے۔ صرف یہ کہنا کہ “مضبوط رہو” کبھی بے اعتنائی محسوس ہو سکتا ہے۔ بہتر رویہ یہ ہے کہ مشکل کو تسلیم کریں، خلوص سے دعا کریں، اور پوچھیں کہ کون سی مدد مفید ہوگی۔
علاج اختیار کرنا ذمہ دار امید کا حصہ ہے
کفارے پر ایمان کا مطلب مناسب طبی دیکھ بھال سے انکار، سنگین علامات کو نظر انداز کرنا، یا ماہر کے مشورے کے بغیر تجویز کردہ علاج روک دینا نہیں ہے۔ روحانی امید اور ذمہ دار عمل ایک ساتھ ہو سکتے ہیں۔ مومن پیشہ ورانہ طبی مدد لے سکتا ہے، دوسروں کی معاونت قبول کر سکتا ہے، ضرورت کے مطابق آرام کر سکتا ہے، اور ساتھ ہی اللہ پر بھروسا رکھ سکتا ہے۔
اسی طرح اس حدیث کو صحت یابی کی یقینی ضمانت دینے یا بیماری جاری رہنے پر کسی کو قصوروار ٹھہرانے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا پیغام اس روحانی قدر کے بارے میں ہے جو اللہ مشکل میں رکھ سکتا ہے؛ یہ تشخیص، علاج یا انفرادی طبی رہنمائی کا متبادل نہیں۔
ایک ایک دن صبر کی مشق
بیماری میں صبر اکثر چھوٹے فیصلوں میں ظاہر ہوتا ہے: اپنی استطاعت کے مطابق فرض نماز قائم رکھنا، تکلیف کے باوجود احترام سے بات کرنا، ضروری مدد قبول کرنا، مایوسی سے بچنا، اور دعا کی طرف لوٹنا۔ زیادہ مشکل دنوں میں صبر کا مطلب صرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ سے امید نہ توڑتے ہوئے اگلا ذمہ دار قدم اٹھایا جائے۔
دیکھ بھال کرنے والوں کو بھی نرمی اور حقیقت پسندانہ توقعات کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ مریض کی رازداری محفوظ رکھتے ہوئے کھانے، سواری، ملاقاتوں یا گھریلو کاموں کا انتظام کر سکتے ہیں۔ خاموش اور قابلِ اعتماد خدمت اکثر بار بار نصیحت کرنے سے زیادہ مفید ہوتی ہے۔
نتیجہ
صحیح البخاری 5641–5642 تکلیف کو کم سمجھے بغیر امید دیتی ہے۔ کانٹے کی چبھن بھی ایسا ذریعہ بن سکتی ہے جس سے اللہ گناہ مٹا دے۔ مسلمان درد کو دیانت داری سے تسلیم کر سکتا ہے، مناسب دیکھ بھال حاصل کر سکتا ہے، دوسروں کی مدد قبول کر سکتا ہے، اور اللہ کی رحمت سے امید قائم رکھ سکتا ہے۔ مشکل کو خوش نما بنانا درست نہیں، مگر ایمان کے ذریعے اسے بے معنی بھی نہیں رہنے دینا چاہیے۔
References
Sahih al-Bukhari — Book 75 (Patients), Chapter 1, Hadith 2; References 5641–5642









