Showing posts with label Life Of Muslim. Show all posts
Showing posts with label Life Of Muslim. Show all posts

Wednesday, January 8, 2014

Jashn e Eid Milad un Nabi Islam Ki Roshani Mai - Eid Milad un Nabi Per Aik Mukalma


جشنِ میلاد پر ایک مکالمہ

جُنید: السلام علیکم۔
منشاء: وعلیکم اسلام ۔سنائے آج کیسے صبح صبح آگئے،دکان پرنہیں گئے؟
جُنید: آج تو عید میلادالنبی ہے ، بازار ، دکانیں سب بند ہیں۔
منشاء :اچھا تو آپ آج عید منارہے ہیں۔

جُنید:کیا آپ نہیں منارہے ہیں؟
منشاء:عیدیں تو اسلام میں صرف دوہی ہیں، (١)عید الفطر اور (٢)عیدلاضحی۔
جُنید:یہ تیسری عید بھی تو ہے جسے عید میلادالنبی کہتے ہیں۔
منشاء: اچھا آپ ذرا یہ بتائیں یہ جو تیسری عید ہے ، کیا اس عید والے دن عید گاہ جاکر نماز عید ادا کی جاتی ہے ؟
جُنید:عید میلادالنبی کی نماز تو ہوتی ہی نہیں ہے۔
منشاء:باقی دوعیدوں کی نمازیں پھر آپ کیوں پڑھتے ہیں؟
جُنید:وہ تو پڑھنی چاہیئے؟
منشاء:وہ کیوں پڑھنی چاہیئے۔

جُنید :اس لئے کہ ان کے پڑھنے کا حکم ہے ۔
منشاء :کیا عید میلادالنبی کی نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے ؟
جُنید :نہیں ہوگااس لئے تو کوئی نہیں پڑھتا۔
منشاء :کیا عید میلادالنبی منانے کا کہیں حکم ہے ؟
جُنید :سنا تو نہیں کہیں حکم ،منع بھی تو نہیں ہے ۔
منشاء :کیا اس کی نماز ِعید منع ہے ؟
جُنید :منع تو وہ بھی نہیں ہے۔
منشاء :پھر آپ کیوں نہیں پڑھتے؟
جُنید :آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟
منشاء :میں بتانا چاہتاہوں کہ اسلام میں اس عید کا کوئی ثبوت نہیں ، اگر یہ عید اسلام میں ہوتی تو باقی دوعیدوں کی طرح اسکی نماز بھی ہوتی ، اس کی فضیلت حدیث میں پائی جاتی ۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے احکام اور مسائل کو بیان فرمائے ہوتے۔

جُنید:جو لوگ یہ عید مناتے ہیں کیا وہ غلطی کرتے ہیں؟
منشاء :اسلام مسلمانوں کے عمل کا نام نہیں ، اسلام قرآن اور حدیث کا نام ہے ، جو بات قرآن وحدیث سے ثابت ہے وہ دین ہے ، جو ثابت نہیں وہ دین نہیں۔اگر کوئی اس کو دین بناتا ہے تو وہ دین میں اضافہ کرتا ہے جو ایک سنگین جرم ہے ، اسی کو بدعت کہتے ہیں ۔آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنی امت کو بدعت سے بہت ڈرایا ہے ۔
جُنید:کیا صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں عیدمیلاد النبی کوئی مناتا تھا؟
منشاء :سوال ہی پیدانہیں ہوتا، صحابہ اور تابعین کے بعد کسی امام ومحدث نے بھی یہ عید نہیں منائی ،اہل سنت کے چاروں اماموں نے تو اس عید کا نام بھی نہ سنا تھا۔یہ بدعت ٦٢٥ھ سے شروع ہوئی ہے۔

جُنید:یہ کیسے ہوسکتا ہے ایک مسلمان اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت بھی کرتا ہواور آپ کی پیدائش کا دن خاموشی سے گزاردے۔
منشاء :ایسا ہوسکتا ہے اور ہوا ہے ۔آپ کبھی کسی تاریخ میں نہیں دکھاسکتے کہ صحابہ وتابعین اور ائمہ سلف نے یہ عید منائی ہو۔نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت کتاب وسنت پر عمل کرنے سے ظاہر ہوتی ہے نہ کہ عید منانے سے ۔کیا ٦٢٥ھ سے پہلے کے لوگوں کو نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے محبت نہیں تھی؟ حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے تو اس ز مانے کو بہترین زمانہ قرار دیا ہے ۔
جُنید: عیسائی اپنے نبی کی پیدائش پر کرسمس (عید میلاد) مناتے ہیں ، ہمارے نبی کی شان تو سب سے اعلیٰ ہے ، ہم مسلمان اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یوم پیدئش کیوں نہ منائیں؟
منشاء : عیسائی تو اپنے نبی کو خدا اور خدا کا بیٹا بھی کہتے ہیں ، کیا عیسائیوں کی نقالی میں ہم اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خدایا خدا کا بیٹا بنالیں ؟میرے بھائی! عیسائیوں کو قرآن وحدیث میں اسی لئے تو گمراہ قراردیا ہے کہ وہ سب کچھ اپنے نبی کی تعلیمات کے خلاف کرتے ہیں ، کرسمس منانا عیسائیوں کا اپنا مذہب ہے یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیم نہیں ہے۔ جُنید : عید میلاد النبی کوئی فضول رسم ہے ؟
منشاء : اگر یہ اچھا کام ہوتا توپھر رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے کیوں نہ کیا، کیا اس زمانے میں وسائل کی کمی تھی ، جو لوگ دودوعیدیں مناسکتے تھے ان کو تیسری عید منانے میں کیا حرج تھا؟

جُنید: صحابہ کے زمانے میں بہت سے کام نہیں ہوتے تھے جو آج کل ہوتے ہیں ؟ آج ہم گاڑیوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں ، آپ صحابہ کرام والے اسلام پر عمل کرتے ہوئے گدھوں اور گھوڑوں پر سفر کیا کریں۔
منشاء: میرے بھائی ! سائنسی ایجادات سے اسلام میں ملاوٹ نہیں ہوتی ، مذہبی ایجادات سے اسلام میں ملاوٹ ہوتی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: جس نے دین میں کوئی نئی چیز ایجاد کی اسے رد کردیا جائے گا
(صحیح بخاری ومسلم)

 حافظ ابن حجر اس کی تشریح میں لکھتے ہیں : ‘‘ والمردامرالدین ’’ " اس سے دین کا امر مراد ہے " یعنی جس نے دین کے اندر کوئی نئی رسم نکالی تو وہ مردود ہے (فتح الباری٣٢٢٥). ان سے واضح ہوگیاکہ ہر احداث برا اور مردو نہیں ہے بلکہ وہ بدعت او راحداث مردود ہے جس کا تعلق دین اور دینی معاملات سے ہو، اور اسے دین کا کام اور کارِ ثواب سمجھ کر کیا جائے،لہٰذا جتنی بدعتیں لوگوں نے دین کے اندر نکالی ہیں وہ تمام کی تمام مردو ہیں۔جہاں تک دنیوی چیزیں ہیں،اس کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :(وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیْرَ لِتَرْ کَبُوْھاَ وَزِیْنَة وَیَخْلُقُ ماَلاَ تعْلَمُوْنَ)‘‘ اور اُسی نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیداکئے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور (وہ تمہارے لئے) رونق وزینت (بھی ہیں) اور وہ (اور چیزیں بھی) پیداکرے گا جن کی تمہیں خبر نہیں ’’۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ خود کہہ رہا ہے کہ وہ چیزیں بھی استعمال کرسکتے ہیں جن کا علم اس وقت کے لوگوں کو نہیں تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام مباح دنیاوی نئی (سائنسی) ایجاد کردہ چیزوں کو ہم استعمال کرسکتے ہیں۔

جُنید: تو پھر آپ بچے کی پیدائش پر خوشی کیوں مناتے ہیں ؟
منشاء : خوشی منانے اور خوش ہونے میں فرق ہے ۔بچے کی پیدائش پر ہر انسا ن فطری طور پر خوش ہوتا ہے کہ مذہبی طور پر،جہاں تک خوشی منانے کا تعلق ہے تو اس کے لئے شریعت نے ساتویں دن عقیقہ کرنے کا حکم دیا ہے،اب آپ بتائیں کہ بارہ ربیع الاول کو عید منا نےکا حکم شریعت نے دیا ہے یا کوئی ترغیب دلائی ہے ؟ ہر گز نہیں،پھر بچے کی پیدائش پر خوشی تو صرف ایک دن منائی جاتی ہے ہر سال نہیں ۔کیا حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) ہر سال بارہ ربیع الاول کو پیداہوتے ہیں؟ بچے کی پیدائش پر خوشی بھی ساتویں دن منائی جاتی ہے اس کی پیدائش کے دن نہیں،اور وہ بھی ایک مرتبہ ،ہر سال نہیں۔
جُنید: کہتے ہیں کہ ابولہب نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش پر لونڈی کو آزاد کیا تھا۔
منشاء : وہ ا س لئے کہ ابولہب کو اپنے بھتیجے کی پیدائش پر خوشی ہوئی تھی،اس نے لونڈی اس لئے آزاد نہیں تھی کہ ایک رسول دنیا میں تشریف لائے ہیں،یہ بات اتنی پسندیدہ تھی تو کیا آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نبوت کے اعلان کے بعد کبھی بھی ابولہب کی اس سنت کو زندہ کرنے کا حکم دیا؟ ابولہب نے تو دنیا کے عام رواج کے مطابق خوشی منائی،بچہ تو کسی گھرمیں پیداہوخوشی ضرور ہوتی ہے،ابولہب کا لونڈی آزاد کرنا اس لئے نہیں تھا کہ اس دن کو عید تصور کیا تھا ۔اگر ابولہب کو اپنے بھتیجے کی نبوت سے محبت ہوتی تو وہ آپ کے ساتھ بدترین عداوت کا مظاہرہ نہ کرتا اور نہ اس کی اور اس کی بیوی کی مذمت میں قرآن کی پوری سورت نازل ہوتی، پھر اگر ابولہب کے عمل کو عید میلا دالنبی کی دلیل شمار کیا جائے تو اس کامطلب یہ ہوا کہ عید میلادالنبی سنت نبی تو نہیں البہ ابولہبی ضرور ہے۔

جُنید: سنا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی صحیح تاریخ پیدائش میں مؤرخین کا اختلاف ہے،آخر حقیقت کیا ہے ؟
منشاء : اللہ تعالیٰ نے جان بوجھ کر انہیں ایک دن پر متفق نہیں کیا تاکہ اسلام کے خالص ہونے کی دلیل قائم رہے،لوگ اس بدعت سے بچے رہیں،یہی ہم اب تک کہتے ہیں کہ یہ دن پہلے زمانوں میں نہیں منایا جاتا تھا بعد میں ایجاد ہوا ہے،اگر بارہ ربیع الاول کا دن کسی بھی حیثیت سے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) یا بعد میں کسی زمانے میں منایا جاتا رہا ہوتا تو سارے مسلمان آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تاریخ پیدائش پر متفق ہوتے۔
جُنید: چلئے مان لیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کی پیدائش شروع سے نہیں منائی جاتی تھی لیکن اب جدید سائنسی دور میں بھی تحقیق نہیں ہو سکی کہ آپ کی صحیح تاریخ پیدائش کیا ہے ؟
منشاء : دیکھئے تاریخ وفات پر تمام مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ بارہ ربیع الاول ہی ہے،لیکن آ پ کی صحیح تاریخ پیدائش کے بارے میں جدید تحقیق تو یہی کہتی ہے کہ وہ نو ربیع الاول ہے ۔قاضی سلیمان کی رحمت للعالمین اور مولانا شبلی نعمانی کی سیرت النبی میں ساری تحقیق موجود ہے ۔

جُنید: آخر یہ عید میلا النبی آئی پھر کہاں سے؟
منشاء: آپ ایک چیز ایجاد کرتے ہیں اور اس کا ثبوت ہم سے مانگتے ہیں ،بہرحال یہ بات تو مُسلّم ہے کہ عہدِ رسالت سے آئمہ ومحدثین کے زمانے تک اس کا نام ونشان بھی نہ تھا۔یہ رسم ٦٢٥ھ سے شروع ہوئی کچھ نادان لوگوں نے اسے ایجاد کیا۔
جُنید: یہ تو واقعی ہم زیادتی کرتے ہیں،جبکہ ان بزرگوں نے یہ عید نہیں منائی تو پھر ہم کیوں منائیں۔
منشاء: جزاک اللہ خیر۔اب آپ کی سمجھ میں میری بات آئی۔
جُنید: بات تو آپ کی سمجھ گیا ہوں،اچھا یہ بھی وضاحت فرمادیجئے کہ جو لوگ عید میلا دمناتے ہیں ان میں جذبہ اور نیت تو نیک ہی ہوتی ہے اور صحیح حدیث میں ہے :" اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے "
منشاء : میرے بھائی جب آپ کو صحیح حدیث بتائی جاتی ہے اگر وہ آپ کے عمل کے خلاف ہوتو آپ لوگ یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ ہمارے مولوی صاحب نے اس طرح کہا ہے،اور ہمارے بڑوں نے اس طرح کیا ہے،ہم بھی وہی طریقہ اختیار کریں گے۔اب آپ کو صحیح حدیث یاد آگئی بہرحال بدعت تو کہتے ہی اس عمل کو ہیں جو نیک نیتی سے کی جائے،مگر عمل بذات ِ خود غلط ہو تو وہ قبول نہیں ہوتا۔اللہ کے ہاں عمل کی قبولیت کے لئے نیک نیتی کے ساتھ ساتھ عمل کا سنت کے مطابق ہونا بھی شرط ہے ورنہ وہ عمل برباد ہے ۔قرآن وحدیث میں جگہ جگہ اس کی صراحت موجود ہے ۔

جُنید: کیا عید میلاالنبی کا بالکل کوئی ثواب ہی نہیں؟
منشاء: بھائی! جب ا س کا وجود ہی اسلام میں نہیں تو یہ کارِ ثواب کیسے ہوسکتا ہے ہ؟ یہ تو بدعت ہے،دین میں اضافہ کوئی معمولی جرم نہیں،آپ تو ثواب کی بات پوچھتے ہیں،قیامت کے دن تو ایسے لوگوں کو حوضِ کوثر سے پانی بھی نصیب نہ ہوگا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود ان لوگوں کو قریب نہیں آنے دیں گے ۔ سُنئے ! حدیث میں آتا ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں " قیامت کے روز، میں حوضِ کوثر سے اپنے اُمتیوں کو پانی پلارہا ہوں گا، میری اُمت کے کچھ لوگوں پر فرشے لاٹھی چارج کرہے ہوں گے،(حالانکہ ان کے ہاتھ پاوں وضوکی وجہ سے چمک رہے ہوں گے)میں پوچھوں گا ان کا کیا قصور ہے ؟ انہیں میری طرف آنے دو، یہ میرے اُمتی ہیں،جواب ملے گا:اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد انہوں نے دین میں تبدیلیاں کردی تھیں، یہ سن کر حضور خود فرمائیں گے: انہیں لے جاو،انہیں دور لے جاو، اس لئے کہ ان لوگوں نے میرے بعد میرے دین میں رسم ورواج اور تبدیلیاں کیں"

جُنید: واقعی معاملہ تو بڑا خطرناک ہے،آپ نے مجھے یہ حدیث سنا کر بہت زیادہ ڈرادیا ہے،آپ کی بڑی نوازش کہ آپ نے مجھے راہِ حق کی رہنمائی فرمائی ۔ان شاء اللہ میں اپنے دوست واحباب کی بھی صحیح رہنمائی کروں گا تاکہ وہ تمام بدعات وخرافات سے تائب ہوکر کتاب وسنت پر گامزن رہیں۔
منشاء: اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کی توفیق بخشے.

Allah Know Better - May Allah Show Us Right Path

Tuesday, January 7, 2014

3 Aayato'n Mein ALLAH Ka Ism-e-Azam Hai

3 Aayato'n Mein ALLAH Ka Ism-e-Azam Hai

Hazrat Muhammad SAW ka Irshad-e-Pak hai ke :

3 Aayato'n mein ALLAH ka Ism-e-Azam hai, jis ke zariye Dua mangi jaye to radd nai hoti.

1) اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ

Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of existence.
خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا

[Surat Aal-Imran #2]

2) اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of [all] existence. Neither drowsiness overtakes Him nor sleep. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Who is it that can intercede with Him except by His permission? He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they encompass not a thing of His knowledge except for what He wills. His Kursi extends over the heavens and the earth, and their preservation tires Him not. And He is the Most High, the Most Great.
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

[Aayat-ul-Kursi, Surah Al-Baqarah # 255]

3) وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا

And [all] faces will be humbled before the Ever-Living, the Sustainer of existence. And he will have failed who carries injustice.
اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا

[Surat Taha # 111]

Six Kalmas Of Islam

Kalma 1 - Six Kalmas Of Islam

Kalma 2 - Six Kalmas Of Islam

Kalma 3 - Six Kalmas Of Islam

Kalma 4 - Six Kalmas Of Islam

Kalma 5 - Six Kalmas Of Islam

Kalma 6 - Six Kalmas Of Islam

Six Kalmas Of Islam.

Saturday, January 4, 2014

Muslim Population Statistics in The World 2013/2014

Muslim Population Statistics in The World 2013/2014
Click on images below to enlarge:


World's Total Population: 7,121,900,000
Total Muslim: 1,666,524,600
% Muslims: 23.4

Sunday, December 29, 2013

Dua Ke Teen Pehlo Hotye Hai


دُعا کے تین پہلو ہوتے ہیں:

یا تو قبول ہوتی ھے
یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر لی جاتی ھے
یا مصیبت کو ٹال دیتی ھے
مگر رَد نہیں ہوتی

Monday, September 2, 2013

Internet Pe Fahash Tasaveer Dekhnye or Phalanye Ka Anjam - Aik Sacha Waqiya


میرے دوست کی ماں اکثر خواب میں دیکھتی کہ لڑکے اس کے بیٹے کی قبر پر آتے ہیں اور پیشاب کر کے چلے جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھتی کہ یہ کیسا خواب ہے اور اسکی کیا تعبیر ہوگی؟ اس بیچاری کو کیا پتہ کہ اس خواب کے پیچھے کیا راز تھے 

ایک جاننے والے نے بتایا: اُس کا ایک بہت اچھا دوست تھا جو پچھلے دنوں روڈ ایکسیڈنٹ میں مارا گیا۔ لیکن اس کی موت سے کچھ قباحتیں اور مشکلات کھڑی ہوئی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ مرنے والا انٹرنیٹ سے متعلقہ امور میں مہارت رکھنے والا شخص تھا۔ فحش مواد والی ویب سائٹس اُسکی کمزوریاں تھیں اور ننگی تصاویر جمع کرنا اُس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔

حتیٰ کہ اُس نے اپنی ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی تھی جس پر ہر طرح کی فحش تصاویر کا ایک بہت بڑا مجموعہ لوگوں کی تفریح طبع کیلئے موجود تھا۔ ویب سائٹس کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ رجسٹرڈ ممبران کو نئی تصاویر یا ہر کچھ دنوں کے بعد چند تصاویر کا ایک مجموعہ خود بخود ہی ان کے ایمیل پر پوسٹ ہو جاتا تھا۔

اب میرے اس دوست کی ناگہانی موت نے ہمارے لیئے یہ مصیبت کھڑی کر دی ہے کہ ہمیں اس کی ویب سائٹ کا پاس ورڈ معلوم نہیں ہے تاکہ کم از کم اس ویب سائٹ کو بند کریں یا کوئی دوسرا حل نکالیں۔

کہتا ہے: جب میں مسجد میں بیٹھا اس کی نماز جنازہ کا انتظار رہا تھا تو یہی سوچ رہا تھا اور جب ہم سب اس کی لاش کو اُٹھا کر قبر کی طرف جا رہے تھے تو بھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ قبر میں جا کر کس چیز کا سامنا کرے گا؟ ننگی تصاویر کا؟ حسبنا اللہ و نعم الوکیل
قبرستان میں قبروں کی وحشت اور ویرانگی مگر جنازے کے ساتھ آئے ہوئے لوگوں کے رش کے باوجود میرا دماغ بس یہی بات ہی سوچتا رہا۔ میں نے قبر کے اندر ایک نظر ڈالی اور افسوس کے ساتھ سوچا پتہ نہیں میرے دوست کا یہاں کیا حشر ہوگا؟

میرے دوست کے کچھ قریبی احباب تو رو بھی رہے تھے اور میں یہ سوچ رہا تھا کیا انکا رونا میرے دوست کے کسی کام آ سکے گا؟
ہم نے میت دفنائی اور واپس چل دیئے۔ جی ہاں اپنے دوست کو قبر میں اکیلا چھوڑ کر، اسکا سارا مال اور اس کے سارے اھل خانہ واپس، وہاں رہا تو اس کے اعمال تھے، اور کیا پتہ اس کے کیسے اعمال تھے؟

میرے دوست کی ماں اکثر خواب میں دیکھتی کہ لڑکے اس کے بیٹے کی قبر پر آتے ہیں اور پیشاب کر کے چلے جاتے ہیں۔ وہ ہمیشہ مجھ سے پوچھتی کہ یہ کیسا خواب ہے اور اسکی کیا تعبیر ہوگی؟ اس بیچاری کو کیا پتہ کہ اس خواب کے پیچھے کیا راز تھے!
میں اپنے آپ کو کہتا کہ خواب کی تعبیر تو واضح ہے لڑکے وہ لوگ تھے جن کو میرا دوست ننگی تصاویر بھیجا کرتا تھا اور وہ لڑکے یہ تصاویر آگے سے آگے پہنچاتے تھے۔ اللہ اکبر، یہ کیسا جال سا پھیلا ہوا تھا اور کس کس کے گناہ میرے دوست کو ڈس رہے ہونگے؟

میں نے اپنے دوست کی ویب سائٹ کی ہوسٹنگ کمپنی سے رابطہ کیا تاکہ وہ اس ویب سائٹ کو بند کردیں۔ مگر انہوں نے معذرت کر لی کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے۔ میرے اصرار پر انہوں نے مجھے یہاں تک بھی کہا کہ وہ مجھ پر یقین نہیں کر سکتے کیونکہ جس نام اور جس پاس ورڈ سے یہ ویب سائٹ خریدی اور بنائی گئی تھی وہ معلومات میرے پاس نہیں تھیں۔ میں نے انہیں غصے میں بھی لکھا کہ لوگو، میرے دوست پر رحم کر دو، وہ بیچارہ مر گیا ہے مگر سب بے سود تھا۔

میں اکثر بیٹھ کر اپنے دوست کی حالت پر سوچتا جو کہ مجھے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد مبارک کے مصداق نظر آتا جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں میں سے کچھ شر کے راستے کھولنے والے اور خیر کے بند کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور مین تڑپ کر رہ جاتا میرا دوست کس طرح لوگوں کے گناہ اُٹھائے گا جن کیلئے اس نے شر کے دروازے کھولے تھے۔ اور کس طرح قیامت کے دن ان سب گناہوں کو اپنے کندھے پر لاد کر محشر میں جائے گا؟

میں جانتا ہوں کہ میری ان باتوں کا کسی پر کچھ اثر نہیں ہونے لگا، کیونکہ نوجوان تو اس کو محض وقت گزاری جانتے ہیں، جب کہ اللہ کی پناہ؛ ان تصاویر کے نتائج کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لڑکوں نے ایسی تصاویر دیکھیں، اپنی خواہشات کے سامنے بے بس ہوئے اور گناہوں کے گڑھوں میں کرتے چلے گئے اور کتنی ہی معصوم بچیاں بربادیوں میں پھنستی چلی گئیں۔

میرا دوست تو مر گیا مگر میں جانتا ہوں کہ روز قیامت اس سے ضرور سوال کیا جائے گا کہ تو نے کتنی ایسی تصاویر ہر اپنی نظریں ڈالیں اور تیری دوسروں کو بھجی ہوئی تصویروں پر کس کس کی نظریں گئیں؟ تو نے کدھر کدھر یہ تصاویر پھیلائیں اور اور جن تک تیری بھیجی ہوئی تصاویر گئین انہوں نے کس قدر آگے ان کو آگے پھیلایا؟

Monday, July 15, 2013

Rishto Ki Rasi Kamzoor Kab Hoti Hai


Rishto Ki Rasi Kamzoor Kab Hoti Hai

Friday, July 5, 2013

New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013

New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013 

New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013
 
New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013

New Photos of Holy Kaaba, Haram Sharif, Khana Kaba Pictures 2013

Tuesday, July 2, 2013

Hazrat Esa (AS) - Hazrat Isa (AS) Aasman Par - History in Urdu



Hazrat Esa (AS) - Hazrat Isa (AS) Aasman Par - History in Urdu

Tuesday, June 25, 2013

Thousands Of Palestinian People Waiting For A Singer Not For Salahuddin Aayubi

Thousands Of Palestinian People Waiting For A Singer

Thousands of Palestinian people waiting for a singer !!!!!!!
Like he is Salahuddin Alayubi coming to free their occupied land!

When the great leader Salahuddin Alayubi was asked: Oh Salahuddin, why do you never smile? He said: How can I smile and how can food or water taste good to me when Al Aqsa is under the hands of the occupiers?!

And by time Salahuddin succeeded to free Plaestine because he was a sincere muslim MAN

Today, "israel" succeeded to turn the hearts of muslims toward songs and love series so you find millions of muslims spending their days watching turkish series and western movies reading about singers and football players while other muslims are being slaughtered like sheeps and their lands are being occupied !

The prophet pbuh said: , 'Soon a time will come upon you, when the nations will call one another against you, like a group of people sitting around a platter of food.
The Sahaabah asked, 'Ya Rasoolullaah, will we be few in number that day?'

He (saw) replied." No, you wont be few in number, rather you will number MANY...BUT you will be like the floating rubbish, upon floods of water.

When such a time shall come, Allah, The Almighty, will extract your fear from the hearts of your enemies, and He, (swt), will cast Wahn into your hearts.'

The Sahaabah asked, 'Ya Rasoolulllaah, what's Wahn?'

He (saw) replied, 'The Love of this life and the fear of death.'

Allah the almighty says: "Believers are but brothers"

How dare a muslim enjoy his life while his brother muslim is being killed ?! How dare a muslim sing while he knows that his sisters are being raped somewhere else ?!
How dare a muslim feel happy while he knows that Alquds is under occupation of non muslims ?!

Brotherhood is gone , may Allah save us.

Monday, June 24, 2013

Facts, Misconceptions of Shab e Barat, 15 Shaban Ke Barye Mai Ghalt Fehmiya


شب برات کے بارے میں غلط فہمیاں اور انکے جواب

1) الله تعالی اس رات میں پہلے آسمان پر آتا ہےتاکہ لوگوں کی دعائیں قبول کر کے انہیں بخش دے

جواب) الله سبحان و تعالٰی ہر رات کے آخری 3/4 حصہ میں پہلے آسمان پر آتا ہے اور یہ بخشش اور دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے .. صحیح بخاری 1145 ، صحیح مسلم 1261

2) اس رات زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے اور تقدیر میں لکها جاتا ہے

جواب) جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو فرشتہ آتا ہے اور چار چیزیں جن میں تقدیر اور موت بھی لکھ دی جاتی ہے .. صحیح بخاری حدیث 430

3) اس رات مردوں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں

جواب) اسکی کوئی روایت ہی نہیں یعنی نہ تو قرآن میں ملے اور نہ ہی حدیث میں .

Monday, June 17, 2013

Dosro Se Agye Nikalnye Ka Hunar


Dosro Se Agye Nikalnye Ka Hunar

Saturday, June 15, 2013

Indeed, ALLAH Has With HIM A Great Reward

Indeed, ALLAH Has With HIM A Great Reward

الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِندَ اللَّهِ ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ
يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُم بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَّهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُّقِيمٌ
خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ

English Translation :

The ones who have believed, emigrated and striven in the cause of Allah with their wealth and their lives are greater in rank in the sight of Allah . And it is those who are the attainers [of success].
Their Lord gives them good tidings of mercy from Him and approval and of gardens for them wherein is enduring pleasure.
[They will be] abiding therein forever. Indeed, Allah has with Him a great reward.

Urdu Translation :

جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے ہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں۔ اور وہی مراد کو پہنچنے والے ہیں
ان کا پروردگار ان کو اپنی رحمت کی اور خوشنودی کی اور بہشتوں کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے نعمت ہائے جاودانی ہے
(اور وہ) ان میں ابدالاآباد رہیں گے۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کے ہاں بڑا صلہ (تیار) ہے

[Surah At-Tawbah # 20,21,22]

Friday, June 14, 2013

Gusal Ka Tarika - فرض غسل کا صحیح طریقہ


فرض غسل کا صحیح طریقہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آیٔیں ذرا غسل کے متعلق چند اچھی اور اھم باتیں جان لیتے ھیں۔

دین اسلام کے ماننے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاک وصاف رہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی طہارت ( پاکیزگی ) نصف ایمان ہے۔ اس بات کو تو تقریبآ سب ہی جانتے ہیں۔
مگر پاک کیسے ہوں گے؟

دین اسلام ہمیں پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جو کہ قرآن مجید اور صحیح احادیث میں محفوظ ہے ۔ آئیں سب سے پہلے غسل کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ ہمارا دین اسلام ( قرآن مجید اور صحیح احادیث) اس عمل میں ہمیں کیا سکھاتا ہے ۔ بعض لوگ شرم کی وجہ سے ایسے مسائل پوچھنے سے کتراتے ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ ہمیں علم حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی معلومات کے متعلق پوچھنا ضروری ہے ورنہ غلطی پر غلطی ہوتی رہے گی اور گناہ لازم ہو گا ۔

غسل کن کن حالات میں کرنا چاہیئے

۱ : اسلام قبول کرنے کے بعد غسل کرنا چاہیئے۔ ( صحیح ابن خزیمہ سندہ صحیح) ۔

۲: جب مرد اور عورت کی شرمگائیں مل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح مسلم)۔

۳: احتلام ہو تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔

۴: جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔

۵: جو شخص میت کو نہلائے اسے غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الترمذی، صححہ ابن حبان و ابن حزم، نیل، صححہ الا لبانی، صححہ الحاکم و الذھبی)۔

۶: احرام باندھتے وقت غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الحاکم و سندہ صحیح، المستدرک )۔

۷: عورت کو اذیت ماہانہ اور نفاس کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ (صحیح بخاری)۔

غسل کے متفرق مسائل

حالت جنابت میں رکے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔( صحیح مسلم)۔

پانی میں فضول خرچی نہ کرے ۔ ( احمد و ابو داود و ابن ماجہ و سندہ صحیح، التعلیقات )۔

غسل کے لیے تقریباً سوا صاع یعنی چار کلو گرام پانی کافی ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔
برہنہ ہوکر پانی میں داخل نہ ہو۔ ( ابن خزیمہ، صححہ الحاکم و الذھبی۔ المستدرک)۔

نہاتے وقت پردہ کر لے ۔ ( رواہ ابو داود و النسائی و احمد و سندہ حسن۔ التعلیقات للالبانی علی المشکوٰۃ )۔

اسلام قبول کرنے کے بعد بیری( کے پتوں) اور پانی سے نہائے ۔ (ابن خزیمہ و اسناد صحیح)۔

اگر عورت کے بال مضبوطی سے گندے ہوئے ہوں تو انہیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔ ( صحیح مسلم) ۔

مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ( ابوداود و النسائی سندہ صحٰح ، التعلیقات )۔

مرد اپنی بیوی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر سکتا ہے ۔ (صحیح مسلم)۔ فرض غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضوء کرنے کی ضرورت نہیں۔ ( رواہ الترمذی و صححہ)۔

غسل کرنے کا طریقہ

حمام میں داخل ہونے کی دعاء بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ( رواہ العمری بسند صحیح ، فتح الباری جزء ۱ ) ۔

برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ بائیاں ہاتھ ہر گز پانی میں نہ ڈالیں پانی دائیں ہاتھ سے لیں ۔ ( صحیح مسلم )۔ پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئے۔ ( صحیح بخاری )

پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے اور پھر اسے دھو ڈالے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔

پھر اسی طرح وضوء کرے جس طرح صلٰوۃ کے لیئے وضوء کیا جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری )۔

یعنی تین مرتبہ کلی کرے ،تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، کلی اور ناک مین پانی ایک چلو سے ڈالیں۔ (صحیح بخاری،رواہ ابن خزیمہ سندہ حسن،رواہ احمد و روی النسائی و ابو داود و ابن حبان و بلوغ الامانی جزء ۲ فتح الباری جزء ۱ )

تین دفعہ چہرہ دھوئے اور تین دفعہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ۔ ( رواہ النسائی اسناد صحیح ، فتح الباری جزء ۱ )۔

پھر انگلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرے ، یہاں تک کہ سر کی جلد تر ہو جانے کا یقین ہو جائے پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے ۔ ( صحیح بخاری )

یا ( ۱۔ سر کا مسح نہ کرے بلکہ سر پر پانی بہانے پر ہی اکتفاء کرے ( سنن نسائی ح ۴۲۲)

پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائے ۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف ۔ ( صحیح بخاری )

سارے جسم پر پانی بہاتے وقت اس بات کا یقین کر لیں کہ ایک بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے ۔۔۔ اور تسلی کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ جسم پر پھیرتے جائیں ۔۔ تاکہ پانی ہر جگہ پہنچ جائے ۔۔۔

اگر جسم کا کوئی ایک حصہ بھی خشک رہ گیا جو چاہے بال برابر ہی ہو تو غسل نہیں ہو گا ۔۔۔

اس لیے جو بہنیں نیل پالش استعمال کرتی ہیں وہ غسل سے پہلے یقین کر لیں کہ ساری نیل پالش اتار لی گئی ہے اور ناخنوں پر ایک ذرہ برابر بھی نیل پالش نہیں ہے ۔۔ ورنہ غسل نہیں ہوگا ۔۔

پھر دونوں پیر ( پاؤں)تین تین مرتبہ دھوئے انگلیوں کے خلال کے ساتھ ، پہلے دائیاں پھر بائیاں۔ ( صحیح بخاری)

یا ( ۲۔ پاؤں دھونے کے لیے اس جگہ سے ذرا ہٹ جائے جہاں اس نے غسل کیا ہے ( صحیح بخاری ح ۲۵۹) )

واللہ اعلم !
اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دیں آمین

Thursday, June 13, 2013

It Is Those Who Are The Wrongdoers

It Is Those Who Are The Wrongdoers

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإِيمَانِ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ

English Translation :

O you who have believed, do not take your fathers or your brothers as allies if they have preferred disbelief over belief. And whoever does so among you - then it is those who are the wrongdoers.

Urdu Translation :

اے اہل ایمان! اگر تمہارے (ماں) باپ اور (بہن) بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھو۔ اور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں

[Surah At-Tawbah # 23]

Wednesday, June 12, 2013

Importance Of Sha'baan In The Light Of Hadiths

Importance Of Sha'baan In The Light Of Hadiths

Sha'baan is the eighth month of the Islamic Calendar.

Literal meaning: Sha'baan means to spread and distribute. During this month blessings descend and the provisions and sustenance of man is distributed.

Sha'baan is the month that comes between Rajab and Ramadhaan. There are many virtuous days with which Allah (swt) has blessed his prophet Mohammed (saw). He has promised us great reward for each and every virtuous deed, even if it be as small as removing something from a path way that may trouble others.

Every day Allah (swt) through His love and mercy has allocated a specific time in which those who call unto Him are answered. He has set aside certain days in which mercy has no limits, to those who plead for it. From amongst the special times and days is the month of Sha'baan, in which each deed acted upon, is rewarded more generously by Allah (swt) than compared to any other day.

Why is Sha'baan important ?

In a Hadeeth Sayyidina Usama (r.d) reports that prophet Hazrat Mohammed (saw) said,
"There is a month between Rajab and Ramadan called Sha'baan, people are very ignorant towards this month, even though the reward of each deed is greater within it and the deeds are presented to Allah (swt)."
(Imam Baihaqi reports this hadeeth in his kitaab Shuab-ul-Imaan).

It has also been stated in the kitaab 'Daylami' that prophet Hazrat Mohammed(saw) proclaimed, "Sha'baan is my month." In another hadeeth Sayyedna Aa'isha(r.d.a) narrates that prophet Mohammed (saw) preferred to observe the fasts of Sha'baan thus uniting them with the fasts of Ramadan. From the above Ahaadeeth we learn the significance of Sha`ban and prophet Mohammed (saw)attachment to this blessed month.

Importance of Sha'baan in the light of Hadiths :

عَنْ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ . فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى الله عليه وسلم - اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلاَّ رَمَضَانَ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِى شَعْبَانَ . - بخاري ح1833، مسلم ح1956، نسائي ح2311، ابوداؤد ح2079

Aishah radhiallahu anhaa narrates: The Blessed Prophet (saw) fasted for so long [so many days] we thought he would never break his fast. Then he would do iftar (for so many days) we thought he will never fast. I have never seen the Blessed Prophet (saw) fast for a whole month besides the month of Ramadan and keep more fasts [outside of Ramadan] than in the month of Shabaan.
(Reported in Bukhari, Muslim, Nisai, Abu Dawood)

عَنْ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِنَ الشُّهُورِ مَا تَصُومُ مِنْ شَعْبَانَ. قَالَ ذَلِكَ شَهْرٌ يَغْفُلُ النَّاسُ عَنْهُ بَيْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وَهُوَ شَهْرٌ تُرْفَعُ فِيهِ الأَعْمَالُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِى وَأَنَا صَائِمٌ. - نسائي ح2317، مسند احمد ح20758

Usamah bin Zaid narrates that I said: Oh Blessed Prophet (saw)! I do not see you fasting any month more than the month of Shabaan. The Blessed Prophet (saw) replied:
People are ignorant of it, being between the months of Rajab and Ramadan. All deeds are raised towards Rabb ul Alameen in that month. Thus, I wish that my deeds are raised when I am fasting.
(Reported in Nisai, Musnad Ahmad)

عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فِى شَهْرٍ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِى شَعْبَانَ كَانَ يَصُومُهُ إِلاَّ قَلِيلاً بَلْ كَانَ يَصُومُهُ كُلَّهُ. - ترمذي ح668، نسائي ح2149، ابوداؤد ح2079، مسند احمد ح23402

Aisha radhiallahu anhaa narrates that I never saw the Blessed Prophet (saw) fast in any month more than the month of Shabaan. He used to fast the whole month except for some days; in fact, he used to fast the whole month (of Shabaan).
(Reported in Nisai, Abu Dawood, Musnad Ahmad)

عن أبي هريرة أن عائشة حدثتهم أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصوم شعبان كله قالت قلت يا رسول الله أحب الشهور إليك أن تصومه شعبان؟ قال إن الله يكتب على كل نفس ميتة تلك السنة فأحب أن يأتي أجلي وأنا صائم - مسند ابويعلى ص311 ج8، الترغيب والترهيب ص72 ج2 وقال:وهوغريب واسناده حسن

Abu Huraira (ra) relates that Aisha radhiallahu anhaa narrated to them the hadith that the Blessed Prophet (saw) fasted the whole month of Shabaan. She said: I asked the Blessed Prophet (saw): Oh Blessed Prophet (saw), is Shabaan your most favorite month to fast? He replied: Allah (swt) assigns the year of death for each person (in the month of Shabaan), thus, I wish my death come when I am fasting.
(The chain of narration is ranked "Hasan" in al-Targheeb wal Tarheeb and is also related in Musnad Abu Yala)

Mahe Shaban Ki Fazilat - Importance of 15th Night of Shaban


Mahe Shaban Ki Fazilat - Importance of 15th Night of Shaban
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Get LOM