Showing posts with label Hadees (Urdu). Show all posts
Showing posts with label Hadees (Urdu). Show all posts

Tuesday, January 14, 2014

Tum Meri Tareef Ma Hadd Se Tajawaz Na Karo

Tum Meri Tareef Ma Hadd Se Tajawaz Na Karo

Hazrat Muhammad SAW ne farmaya :

"Tum meri tareef ma hadd se tajawaz na karo, jaisey Nisara ne Ibn-e-Maryam(A.S)ke silsila ma mubalgha se kaam liya, Mein ALLAH ka banda hun isliye mjhey Allah ka banda aur Rasool kaho."

(Sahih Bukhari : 3445)

Monday, January 13, 2014

Muhabbat Kerney Walon Ke Liye Nikah Se Behtareen Koi cheez Nahi

Muhabbat Kerney Walon Ke Liye Nikah Se Behtareen Koi cheez Nahi

Hazrat Muhammad SAW ne farmaya :

"Hum ne do muhabbat kerney walon ke liye Nikah jaisi behtareen aur koi cheez nahi dekhi"

(Ibn-e-Majah, Sanad 1847)


Tuesday, January 7, 2014

3 Aayato'n Mein ALLAH Ka Ism-e-Azam Hai

3 Aayato'n Mein ALLAH Ka Ism-e-Azam Hai

Hazrat Muhammad SAW ka Irshad-e-Pak hai ke :

3 Aayato'n mein ALLAH ka Ism-e-Azam hai, jis ke zariye Dua mangi jaye to radd nai hoti.

1) اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ

Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of existence.
خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہمیشہ زندہ رہنے والا

[Surat Aal-Imran #2]

2) اللَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ

Allah - there is no deity except Him, the Ever-Living, the Sustainer of [all] existence. Neither drowsiness overtakes Him nor sleep. To Him belongs whatever is in the heavens and whatever is on the earth. Who is it that can intercede with Him except by His permission? He knows what is [presently] before them and what will be after them, and they encompass not a thing of His knowledge except for what He wills. His Kursi extends over the heavens and the earth, and their preservation tires Him not. And He is the Most High, the Most Great.
خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں زندہ ہمیشہ رہنے والا اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہیں سب اسی کا ہے کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہوچکا ہے اسے سب معلوم ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اسی قدر معلوم کرا دیتا ہے) اس کی بادشاہی (اور علم) آسمان اور زمین سب پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں وہ بڑا عالی رتبہ اور جلیل القدر ہے

[Aayat-ul-Kursi, Surah Al-Baqarah # 255]

3) وَعَنَتِ الْوُجُوهُ لِلْحَيِّ الْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا

And [all] faces will be humbled before the Ever-Living, the Sustainer of existence. And he will have failed who carries injustice.
اور اس زندہ و قائم کے رو برو منہ نیچے ہوجائیں گے۔ اور جس نے ظلم کا بوجھ اٹھایا وہ نامراد رہا

[Surat Taha # 111]

Sunday, November 17, 2013

Khoon Kharaba Tammam Juraim Se Barda Jurm Hai

 
خون خرابہ تمام جرائم سے بڑا جرم ہے

قتل و غارت گری، خون خرابہ، فتنہ و فساد اور نا حق خون بہانا اِتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل ایسے مجرموں کو سب سے پہلے بے نقاب کرکے کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔

1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ.

1. بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن يقتل مؤمنا متعمدا، 6 : 2517، رقم : 6471
2. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب المجازاة بالدماء في الآخرة وأنها أول ما يقضی فيه بين الناس يوم القيامة، 3 : 1304، رقم : 1678
3. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7 : 83، رقم : 3994
4. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 442

’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘

2۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نے باہمی خون خرابہ اور لڑائی جھگڑے کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ قتل وغارت گری اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر کوئی فرد یا طبقہ اس میں ایک مرتبہ ملوث ہو جائے تو پھر اسے اس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ امام بخاری کی روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ.

1. بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6 : 2517، رقم : 6470
2. بيهقي، السنن الکبری، 8 : 21، رقم : 15637

’’ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو۔ اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔‘‘

3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ و فساد کے ظہور، خون خرابہ اور کثرت سے قتل و غارت گری سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا : يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ : الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب الفتن، باب ظهور الفتن، 6 : 2590، رقم : 6652
2. مسلم، الصحيح، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب إذا تواجه المسلمان بسيفيهما،4 : 2215، رقم : 157

’’زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے : کثرت سے قتل عام)۔‘‘

4۔ جب ایک مرتبہ پرامن شہریوں اور سول آبادیوں کو ظلم و ستم، جبرو تشدد اور وحشت و بربریت کا نشانا بنایا جائے اور معاشرے کی دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات کی محض فکری و نظریاتی اختلاف کی بنا پر target killing کی جائے تو اس دہشت گردی کا منظقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج افراتفری، نفسا نفسی، بد امنی اور لڑائی جھگڑے کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ انہی گھمبیر اور خطرناک حالات کی طرف امام ابو داؤد سے مروی درج ذیل حدیث مبارکہ اشارہ کرتی ہے :

عَنْ عَبْد اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ : کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَة الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ : هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.

أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4 : 94، رقم : 4242

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ اَحلاس کا ذکر فرمایا۔ کسی نے سوال کیا کہ یارسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ افرا تفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘

Wednesday, August 28, 2013

He Who Will Read Surah Fatihah and Last Ayats of Surah Baqarah, His Prayers Will Never Rejected


He Who Will Read Surah Fatihah and Last Ayats of Surah Baqarah, Allah Will Grant Him What He Needs and His Prayers Will Never Rejected.

Quran: Surat Al-Fatihah
Verse: 1-7

In Arabic:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ

صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ

In English:

In the name of Allah , the Entirely Merciful, the Especially Merciful.

"[All] praise is [due] to Allah, Lord of the worlds. The Entirely Merciful, the Especially Merciful, Sovereign of the Day of Recompense. It is You we worship and You we ask for help. Guide us to the straight path. The path of those upon whom You have bestowed favor, not of those who have evoked [Your] anger or of those who are astray."

In Urdu:

شروع الله کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

سب طرح کی تعریف خدا ہی کو (سزاوار) ہے جو تمام مخلوقات کا پروردگار ہےبڑا مہربان نہایت رحم والاانصاف کے دن کا حاکم(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیںہم کو سیدہے رستے پر چلاان لوگوں کے رستے جن پر تو اپنا فضل وکرم کرتا رہا نہ ان کے جن پر غصے ہوتا رہا اور نہ گمراہوں کے

Quran: Surat Al-Baqarah
Verse: 284, 285, 286

In Arabic:

لِّلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُم بِهِ اللَّهُ ۖ فَيَغْفِرُ لِمَن يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

In English:

To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth. Whether you show what is within yourselves or conceal it, Allah will bring you to account for it. Then He will forgive whom He wills and punish whom He wills, and Allah is over all things competent.

The Messenger has believed in what was revealed to him from his Lord, and [so have] the believers. All of them have believed in Allah and His angels and His books and His messengers, [saying], "We make no distinction between any of His messengers." And they say, "We hear and we obey. [We seek] Your forgiveness, our Lord, and to You is the [final] destination."

Allah does not charge a soul except [with that within] its capacity. It will have [the consequence of] what [good] it has gained, and it will bear [the consequence of] what [evil] it has earned. "Our Lord, do not impose blame upon us if we have forgotten or erred. Our Lord, and lay not upon us a burden like that which You laid upon those before us. Our Lord, and burden us not with that which we have no ability to bear. And pardon us; and forgive us; and have mercy upon us. You are our protector, so give us victory over the disbelieving people."

In Urdu:

جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ تم اپنے دلوں کی بات کو ظاہر کرو گے تو یا چھپاؤ گے تو خدا تم سے اس کا حساب لے گا پھر وہ جسے چاہے مغفرت کرے اور جسے چاہے عذاب دے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے

رسول (خدا) اس کتاب پر جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اورکہتے ہیں کہ) ہم اس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور وہ (خدا سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے

خدا کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اچھے کام کرے گا تو اس کو ان کا فائدہ ملے گا برے کرے گا تو اسے ان کا نقصان پہنچے گا۔ اے پروردگار اگر ہم سے بھول یا چوک ہوگئی ہو تو ہم سے مؤاخذہ نہ کیجیو۔ اے پروردگار ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالیو جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اے پروردگار جتنا بوجھ اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں اتنا ہمارے سر پر نہ رکھیو۔ اور (اے پروردگار) ہمارے گناہوں سے درگزر کر اور ہمیں بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی ہمارا مالک ہے اور ہم کو کافروں پر غالب فرما

ALLAH Knows Better - JazakAllah Kahir

Monday, June 24, 2013

Facts, Misconceptions of Shab e Barat, 15 Shaban Ke Barye Mai Ghalt Fehmiya


شب برات کے بارے میں غلط فہمیاں اور انکے جواب

1) الله تعالی اس رات میں پہلے آسمان پر آتا ہےتاکہ لوگوں کی دعائیں قبول کر کے انہیں بخش دے

جواب) الله سبحان و تعالٰی ہر رات کے آخری 3/4 حصہ میں پہلے آسمان پر آتا ہے اور یہ بخشش اور دعاؤں کی قبولیت کا وقت ہے .. صحیح بخاری 1145 ، صحیح مسلم 1261

2) اس رات زندگی اور موت کا فیصلہ ہوتا ہے اور تقدیر میں لکها جاتا ہے

جواب) جب بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو فرشتہ آتا ہے اور چار چیزیں جن میں تقدیر اور موت بھی لکھ دی جاتی ہے .. صحیح بخاری حدیث 430

3) اس رات مردوں کی روحیں دنیا میں واپس آتی ہیں

جواب) اسکی کوئی روایت ہی نہیں یعنی نہ تو قرآن میں ملے اور نہ ہی حدیث میں .

Importance Of Blessed Night Shab e Barat - 15 Shaban Ki Raat


Importance Of Blessed Night Shab e Barat

It was narrated From ‘Ali bin Abu Talib (Radi allahu anhu) that the Messenger of Allah peace be upoon him said: When it is the night of the middle of Sha’ban, spend its night in prayer and observe a fast on that day. For Allah descends at sunset on that night to the lowest heaven and says: ‘Is there no one who will ask Me for forgiveness, that I may forgive him? Is there no one who will ask Me for provision, that I may provide for him? Is there no one who is afflicted by trouble, that I may relieve him?’ And so on, until dawn comes.

(Sunan Ibn Majah, Vol 1 , Book 5, # 1388 )

It was narrated that Aishah radi allahu anha said: I missed the Prophet peace be upon him one night, so I went out looking for him. I found him at Al-Baqi’, raising his head towards the sky. He said: O Aishah, were you afraid that Allah and His Messenger would wrong you? She said: I said: ‘No, it is not that, but I thought that you had gone to one of your other wives.’ He said: ‘Allah descends on the night of the middle of Sha’ban to the lowest heaven, and He forgives more than the numbers of hairs on the sheep of Banu Kalb.

Sunan Ibn Majah, Vol 1 , Book 5, # 1389

It was narrated from Abu Musa Al-Ash’ari that the Messenger of Allah peace be upon him said Allah looks down on the night of the middle of Sha’ban and forgives all His creation, apart from the idolater and the Mushahin.

Sunan Ibn Majah, Vol 1 , Book 5,#1390

Hadith In Urdu:

Jab Nisf Shaban ( 15 Shaban) ki raat ho to raat ko ibadat karo aur dusrey din roza rakho.

Hazrat Ali bin talib Radi-Allahu-Anhu farmatey hain ki jab Nisf Shaban ( 15 Shaban) ki raat ho to raat ko ibadat karo aur dusrey din roza rakho isliye ki iskey Ghrub-e-Shamsh se Fajar tulu honey tak aasman-e-duniya par Allah subhanahu nuzul farmatey hain aur kahtey hain ki koi Maghfirat ka talabgar hai ki main uski maghfirat karu , koi rozi ka talabgar hai ki main usko rozi du , koi beemar hai ki main use beemari se aafaiyat du , hai koi aisa , yahan tak ki Fajar tulu ho jati hai.

(Sunan Ibn Majah, Vol 1 , # 1388 (Hasan Shawaheed from 45 Rivayat )

Aayesha Radi-Allahu-Anha se rivayat hai ki ek raat maine Rasoollallah Sallallhu-Alaihi-Wasallam ko bistar par na paya to unki talash mein nikli aur dekha ki aap jannatul baqi mein aasman ki taraf sir uthaye huye hain Aap Sallallahu-Alaihi-Wasallam ne faramaya ki Aayesha kya tumhey ye khayal hai ki Allah aur uska Rasool tum par zulm karengey mainey arz kiya mujhe aisa koi khayal na tha bulki mainey samjha aap apni kisi biwi ke baas gaye hongey to aap Sallallahu-Alaihi-Wasallam ney farmaya ki Allah subhanahu Nisf Shaban ( 15 Shaban) ki raat aasman-e-duniya par nuzul farmatey hain aur banu kalb ki bakriyon se bhi zyada logo ki bakhshis farma detey hain. ( banu kalb ek kabeeley ka naam tha jiskey pass tamam arab se bhi zyada bakriya thi)

Sunan Ibn Majah, Vol 1 , # 1389 ( Hasan Shawaheed from 35 rivayat )

Abu Musa Al-Ashari Radi-Allahu-Anhu se rivayat hai ki Rasoollallah Sallallhu-Alaihi-Wasallam ne farmaya Allah subhanahu nisf Shaban ki raat ( 15 shaban) ko tamam makhluq ki bakhshis farma detey hain siwaye shirk karney waley ke aur keena rakhney wale ke.

Sunan Ibn Majah

Sunday, June 23, 2013

Shaban Ki 15 Raat, Magfrat Ki Raat - Laylat Al Qadr, Shab E Barat


حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جب شعبان کی پندرہویں شب ہو تو رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو کیونکہ غروب آفتاب کے وقت سے ہی اللہ تعالی کی رحمت آسمان پر نازل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:‘‘ کوئ مغفرت کا طلب کرنے والا کہ میں اسے بخش دوں، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اس کو رزق دوں، کوئی مصیبت زدہ ہے کہ میں اسے مصیبت سے نجات دوں، یہ اعلان طلوع فجر تک ہوتا رہتا ہے“۔

(ابن ماجہ صفحہ100،شعب الایمان للبیہقی جلد3صفحہ378،مشکوتہ شریف جلد1 صفحہ278)

Friday, June 14, 2013

Gusal Ka Tarika - فرض غسل کا صحیح طریقہ


فرض غسل کا صحیح طریقہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آیٔیں ذرا غسل کے متعلق چند اچھی اور اھم باتیں جان لیتے ھیں۔

دین اسلام کے ماننے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاک وصاف رہیں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی طہارت ( پاکیزگی ) نصف ایمان ہے۔ اس بات کو تو تقریبآ سب ہی جانتے ہیں۔
مگر پاک کیسے ہوں گے؟

دین اسلام ہمیں پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جو کہ قرآن مجید اور صحیح احادیث میں محفوظ ہے ۔ آئیں سب سے پہلے غسل کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ ہمارا دین اسلام ( قرآن مجید اور صحیح احادیث) اس عمل میں ہمیں کیا سکھاتا ہے ۔ بعض لوگ شرم کی وجہ سے ایسے مسائل پوچھنے سے کتراتے ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ ہمیں علم حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی معلومات کے متعلق پوچھنا ضروری ہے ورنہ غلطی پر غلطی ہوتی رہے گی اور گناہ لازم ہو گا ۔

غسل کن کن حالات میں کرنا چاہیئے

۱ : اسلام قبول کرنے کے بعد غسل کرنا چاہیئے۔ ( صحیح ابن خزیمہ سندہ صحیح) ۔

۲: جب مرد اور عورت کی شرمگائیں مل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح مسلم)۔

۳: احتلام ہو تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔

۴: جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔

۵: جو شخص میت کو نہلائے اسے غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الترمذی، صححہ ابن حبان و ابن حزم، نیل، صححہ الا لبانی، صححہ الحاکم و الذھبی)۔

۶: احرام باندھتے وقت غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الحاکم و سندہ صحیح، المستدرک )۔

۷: عورت کو اذیت ماہانہ اور نفاس کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ (صحیح بخاری)۔

غسل کے متفرق مسائل

حالت جنابت میں رکے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔( صحیح مسلم)۔

پانی میں فضول خرچی نہ کرے ۔ ( احمد و ابو داود و ابن ماجہ و سندہ صحیح، التعلیقات )۔

غسل کے لیے تقریباً سوا صاع یعنی چار کلو گرام پانی کافی ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔
برہنہ ہوکر پانی میں داخل نہ ہو۔ ( ابن خزیمہ، صححہ الحاکم و الذھبی۔ المستدرک)۔

نہاتے وقت پردہ کر لے ۔ ( رواہ ابو داود و النسائی و احمد و سندہ حسن۔ التعلیقات للالبانی علی المشکوٰۃ )۔

اسلام قبول کرنے کے بعد بیری( کے پتوں) اور پانی سے نہائے ۔ (ابن خزیمہ و اسناد صحیح)۔

اگر عورت کے بال مضبوطی سے گندے ہوئے ہوں تو انہیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔ ( صحیح مسلم) ۔

مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ( ابوداود و النسائی سندہ صحٰح ، التعلیقات )۔

مرد اپنی بیوی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر سکتا ہے ۔ (صحیح مسلم)۔ فرض غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضوء کرنے کی ضرورت نہیں۔ ( رواہ الترمذی و صححہ)۔

غسل کرنے کا طریقہ

حمام میں داخل ہونے کی دعاء بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ( رواہ العمری بسند صحیح ، فتح الباری جزء ۱ ) ۔

برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ بائیاں ہاتھ ہر گز پانی میں نہ ڈالیں پانی دائیں ہاتھ سے لیں ۔ ( صحیح مسلم )۔ پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئے۔ ( صحیح بخاری )

پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے اور پھر اسے دھو ڈالے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔

پھر اسی طرح وضوء کرے جس طرح صلٰوۃ کے لیئے وضوء کیا جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری )۔

یعنی تین مرتبہ کلی کرے ،تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، کلی اور ناک مین پانی ایک چلو سے ڈالیں۔ (صحیح بخاری،رواہ ابن خزیمہ سندہ حسن،رواہ احمد و روی النسائی و ابو داود و ابن حبان و بلوغ الامانی جزء ۲ فتح الباری جزء ۱ )

تین دفعہ چہرہ دھوئے اور تین دفعہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ۔ ( رواہ النسائی اسناد صحیح ، فتح الباری جزء ۱ )۔

پھر انگلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرے ، یہاں تک کہ سر کی جلد تر ہو جانے کا یقین ہو جائے پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے ۔ ( صحیح بخاری )

یا ( ۱۔ سر کا مسح نہ کرے بلکہ سر پر پانی بہانے پر ہی اکتفاء کرے ( سنن نسائی ح ۴۲۲)

پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائے ۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف ۔ ( صحیح بخاری )

سارے جسم پر پانی بہاتے وقت اس بات کا یقین کر لیں کہ ایک بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے ۔۔۔ اور تسلی کے لیے پانی کے ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ جسم پر پھیرتے جائیں ۔۔ تاکہ پانی ہر جگہ پہنچ جائے ۔۔۔

اگر جسم کا کوئی ایک حصہ بھی خشک رہ گیا جو چاہے بال برابر ہی ہو تو غسل نہیں ہو گا ۔۔۔

اس لیے جو بہنیں نیل پالش استعمال کرتی ہیں وہ غسل سے پہلے یقین کر لیں کہ ساری نیل پالش اتار لی گئی ہے اور ناخنوں پر ایک ذرہ برابر بھی نیل پالش نہیں ہے ۔۔ ورنہ غسل نہیں ہوگا ۔۔

پھر دونوں پیر ( پاؤں)تین تین مرتبہ دھوئے انگلیوں کے خلال کے ساتھ ، پہلے دائیاں پھر بائیاں۔ ( صحیح بخاری)

یا ( ۲۔ پاؤں دھونے کے لیے اس جگہ سے ذرا ہٹ جائے جہاں اس نے غسل کیا ہے ( صحیح بخاری ح ۲۵۹) )

واللہ اعلم !
اللہ تعالی ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق دیں آمین

Wednesday, June 12, 2013

Mahe Shaban Ki Fazilat - Importance of 15th Night of Shaban


Mahe Shaban Ki Fazilat - Importance of 15th Night of Shaban

Saturday, June 1, 2013

Mahe Rajab Ke Nawafil, Wazaif, Dua or Ebadat - Rajab Ka Mahena





Mahe Rajab Ke Nawafil, Wazaif, Dua or Ebadat - Rajab Ka Mahena

Rajab - Importance of Rajab - Nawafil & Wazaif of Rajab - Islamic Month


 
 
 
 
 

Rajab - Importance of Rajab - Nawafil and Wazaif of Rajab - Islamic Month

Meaning:
 
From Rajaba "to respect". Another one of the sacred months in which fighting was forbidden prior to Islam. This was one of the most respected months for the Arabs. It is also called Rajab al Fard. Fard means alone; because the other three sacred months come one after another, except this month. It comes alone not like the other 3 consecutive sacred months.

Events:

1. The Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ascended to Heaven on the 27th of Rajab on either Sunday or Monday (Mi'raaj).

2. Hadhrat Bilal Ibn Haritha (R.A) brought a congregation of four hundred men named Banu Muzeena in the presence of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. They all embraced Islam and became followers of the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم in the year 5 A.H
 
3. The battle of Tabook took place in the year 9 A.H. This was the last battle in which the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم participated.

4. The second Oath of Aqabah took place in Rajab, 12 A.H.

Deaths:

- Imam Abu Hanifa (R.A) passed away on the 15th of Rajab 150 A.H.
- Imam Shafi'ee (R.A) passed away on the 14th Rajab 204 A.H.
- Imam Muslim (R.A) passed away on the 24th of Rajab 261 A.H.
- Imam Nawawee (R.A) passed away on the 14th of Rajab 677 A.H.

Thursday, May 2, 2013

Only Death Is Stoping From Entering In Jannah Who Recite Ayat-Ul-Kursi

Only Death Is Stoping From Entering In Jannah Who Recite Ayat-Ul-Kursi

Narrated Abu Imamaؓ that Prophet ﷺ said,
"Only death is stoping the one he who recite Ayatul-Kursi after evey farz namaz from entering in jannah"

حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسالت مآب (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم) نے فرمایا. جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھے تو اس کو بہشت میں داخل ہونے سے سوائے موت کے کوئی چیز نہیں روکتی

[ Nisai, Hadees: 6/30 ]

Sunday, March 10, 2013

Kiya Ham Mai Ya Khasletien Pori Ho Chuki ?


کیا ہم میں یہ پندرہ خصلتیں پوری ہو چکیں؟

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
اگر میری امت میں پندرہ خصلیتں آجائیں گی تو ان پر مصیبتیں نازل ہوں گی عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ کیا ہیں آپ نے فرمایا
1۔ جب مال غنیمت ذاتی دولت بن جائیگی۔
2۔ امانت کو لوگ مال غنیمت سمجھنے لگیں گے۔
3۔ زکوة کو جرمانہ سمجھا جائے گا۔
4, 5۔ شوہر بیوی کی اطاعت کرے گا اور ماں کی نافرمانی کرے گا۔
6, 7۔ دوستوں کے ساتھ بھلائی اور باپ کے ساتھ ظلم و زیادتی کرے گا۔
8۔ مسجد میں لوگ زور زور سے باتیں کریں گے ۔
9- ذلیل قسم کے لوگ حکمران بن جائیں گے۔
10۔ کسی شخص کی عزت اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے جائے گی ۔
11۔ شراب پی جائے گی۔
12۔ ریشمی کپڑا پہنا جائے گا۔
13, 14۔ گانے بجانے والیاں لڑکیاں اور گانے کا سامان گھروں میں رکھا جائے گا۔
15۔ امت کے آخری لوگ پہلوں پر لعن طعن کریں گے۔

پس اس وقت لوگ عذابوں کے منتظر رہیں یا تو سرخ آندھی یا خسف یا پھر چہرے مسخ ہو جانے والا عذاب۔


جامع ترمذی۔۔جلد نمبر 2 / دوسرا پارہ / حدیث نمبر 89 / حدیث مرفوع

Tuesday, January 22, 2013

Jab Tumharye Naujawan Badkaar Ho jaye ge

Jab Tumharye Naujawan Badkaar Ho jaye ge (Click on image to enlarge)


Saturday, January 19, 2013

He Who Acquires a Branch of the Knowledge of Astrology

He Who Acquires a Branch of the Knowledge of Astrology (Click on image to enlarge)

Hazrat Ibn Abbas (May Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah [SAWW](PBUH) said,

"He who acquires a branch of the knowledge of astrology, learns a branch of magic (of which he acquires more as long as) he continues to do so.''

[Abu Dawud, Hadith # 3905]

Saturday, January 12, 2013

He Who Has Some Trouble Or Sorrow He Should Recite This Dua

 Who Has Some Trouble Or Sorrow He Should Recite This Dua


Narrated Abdullah bin Masood ؓ that Prophet ﷺ said, He who has some trouble or sorrow he should recite this dua, and ALLAH will remove his trouble or sorrow and convert it into happiness.
That dua is;

اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا،قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا

Translation in English:

O ALLAH i am your slave, I am son of your slaves (Hazrat Adam & Hawwa ), O ALLAH i ask with the source of your every name which you have nominated for yourself, Or taught it to your creature, or mentioned in your book (quran), or kept it hidden in your super hidden knowledge, that make quran pleasure of my heart, light of my chest and source to remove my sorrow and trouble. Sahaba asked that should we memorize this dua? Prophet ﷺ said, he who listen/read this, should memorize it, because he who neglect this is surely in great loss.

 
حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) نے ارشاد فرمایا : جس کسی کو کوئی فکر یا غم لاحق ہو اور وہ اس دعا کو پڑھ لے تو اللہ تعالی اس کی فکر کو دور کردے گا اور غم کو خوشی میں بدل دے گا 
[ وہ دعا یہ ہے ]
 

اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ نَاصِيَتِي بِيَدِكَ مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجِلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ هَمَّهُ وَحُزْنَهُ وَأَبْدَلَهُ مَكَانَهُ فَرَجًا،قَالَ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَتَعَلَّمُهَا فَقَالَ بَلَى يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهَا أَنْ يَتَعَلَّمَهَا

Translation in Urdu:

اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں ، تیرے بندے کا بیٹا ہوں ، تیری بندی کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ ہے ، میرے بارے میں تیرا حکم نافذ ہے اور میرے بارے تیرا فیصلہ عین عدل ہے اے اللہ میں تیرے ہر اس نام کے وسیلہ سے مانگتا ہوں جس سے تو نے اپنے آپ کو موسوم کیا ہے ، یا اپنی کسی مخلوق کو سکھایا ہے ، یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا اپنے خاص علم غیب میں اسے مخفی رکھا ہے کہ آپ قرآن کریم کو میرے دلوں کی بہار بنادیں ، میرے سینے کا نور بنادیں ، میرے سے غم کو ہٹانے والا بنادیں اور میری فکر کو دور کرنے والا بنادیں ، یہ سن کر صحابہ اکرام نے آپ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) سے سوال کیا : اے اللہ کے رسول (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) ! تو کیا اسے ہم سیکھ نہ لیں ؟ آپ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) نے فرمایا "جو شخص بھی اسے سنے اسے چاہئے کہ اسے سیکھ لے ) کیونکہ وہ شخص بڑے دھوکہ میں ہے جو اس سے غفلت برتے


[ Musnad Ahmed, 1/381 ]  

Wednesday, December 26, 2012

Jis Muashrey Mein Nikah Mushkil Bana Diya Jaey Wahan Zana Aam Ho Jata Hai

Jis Muashrey Mein Nikah Mushkil Bana Diya Jaey Wahan Zana Aam Ho Jata Hai


رشتے کا مشورہ
============
ایک شخص حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا میری بیٹی جوان ہوگئی ہے مجھے مشورہ دیں کہ اس کی شادی کس شخص سے کروں؟
انہوں نے جواب دیا؛اس کی شادی اس شخص سے کرو جو اﷲ سے ڈرتا ہو، متقی ہو۔ اگراس سے محبت کرےگا تو اسکی عزت کرےگا لیکن اگر اس سے محبت نہ کرے اور اس کو اچھا نہ جانے تو بھی اس پر ظلم نہ کرےگا۔
پھر ان سے کہا گیا فلاں فلاں آدمی نے ہم سے بچی کا رشتہ پوچھا ہے۔
حضرت حسن رضی اﷲ عنہ نے پوچھا؛ کیا وہ عقل اور دین میں ٹھیک ٹھاک ہے؟
انہوں نےکہا: ہاں!
فرمایا:پھر اس کے ساتھ اس بچی کی شادی کردو
یہ مشورہ دراصل اس فرمان نبوی صلی اﷲ علیہ وسلم کے عین مطابق تھا جس میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نےفرمایا:
"جب کوئی ایسا شخص تم سے رشتہ طلب گار بن کر آئے جس کے دین و اخلاق سے تم مطمئن ہوتو رشتہ دےدو۔ بلاوجہ تاخیر معاشرے میں بڑے فتنوں اور عظیم فساد کا باعث بنے گا".
﴿سلسلہ احادیث الصیحیحہ 1022﴾

Tuesday, December 25, 2012

Pani Oonth (Camel) Ki Tarha Aik Hi Sans Ma Na Pi Jao

Pani Oonth (Camel) Ki Tarha Aik Hi Sans Ma Na Pi Jao

رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم پینے والی چیزوں کو تین سانس میں پیتے تھے
اور فرماتے تھے:" ایسا کرنے سے اطمینان ہو جاتا ہے، تکلیف اور بیماری سے
حفاظت ہوتی ہے اور ہر وہ چیز خوب ہضم ہوتی ہے۔"
(مسلم:5287، عن انس رضى اللہ تعالى عنہ)

Monday, December 24, 2012

Aayat-e-Sajdah Ki Tilawat Pe Sajdah Karney Ka Sawab Jannat

Aayat-e-Sajdah Ki Tilawat Pe Sajdah Karney Ka Sawab Jannat

ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّمَ) نے فرمایا: جب ابن آدم (آیتِ) سجدہ تلاوت کرتا ہے تو پھر سجدۂ تلاوت کرلیتا ہے تو شیطان دور ہٹ کر رونے لگتا ہے اور کہتا ہے : ہائے افسوس! ابن آدم کو سجدہ کا حکم دیا گیا تو اس نے سجدہ کرلیا، لہٰذا اس کے لیے جنت ہے اور مجھے سجدہ کاحکم ملا اور میں نے انکار کر دیا ، لہٰذا میرے لیے جہنم ہے۔

[ صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث:81
Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
Get LOM