Khoon Kharaba Tammam Juraim Se Barda Jurm Hai



 

خون خرابہ تمام جرائم سے بڑا جرم ہے

قتل و غارت گری، خون خرابہ، فتنہ و فساد اور نا حق خون بہانا اِتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل ایسے مجرموں کو سب سے پہلے بے نقاب کرکے کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔

1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ.

1. بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن يقتل مؤمنا متعمدا، 6 : 2517، رقم : 6471
2. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب المجازاة بالدماء في الآخرة وأنها أول ما يقضی فيه بين الناس يوم القيامة، 3 : 1304، رقم : 1678
3. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7 : 83، رقم : 3994
4. أحمد بن حنبل، المسند، 1 : 442

’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘

2۔ حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم نے باہمی خون خرابہ اور لڑائی جھگڑے کے تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا کہ قتل وغارت گری اتنا بڑا جرم ہے کہ اگر کوئی فرد یا طبقہ اس میں ایک مرتبہ ملوث ہو جائے تو پھر اسے اس سے نکلنے کا راستہ نہیں ملے گا۔ امام بخاری کی روایت کردہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :

إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ.

1. بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6 : 2517، رقم : 6470
2. بيهقي، السنن الکبری، 8 : 21، رقم : 15637

’’ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو۔ اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔‘‘

3۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ و فساد کے ظہور، خون خرابہ اور کثرت سے قتل و غارت گری سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا : يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ : الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.

1. بخاری، الصحيح، کتاب الفتن، باب ظهور الفتن، 6 : 2590، رقم : 6652
2. مسلم، الصحيح، کتاب الفتن وأشراط الساعة، باب إذا تواجه المسلمان بسيفيهما،4 : 2215، رقم : 157

’’زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے : کثرت سے قتل عام)۔‘‘

4۔ جب ایک مرتبہ پرامن شہریوں اور سول آبادیوں کو ظلم و ستم، جبرو تشدد اور وحشت و بربریت کا نشانا بنایا جائے اور معاشرے کی دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات کی محض فکری و نظریاتی اختلاف کی بنا پر target killing کی جائے تو اس دہشت گردی کا منظقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج افراتفری، نفسا نفسی، بد امنی اور لڑائی جھگڑے کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ انہی گھمبیر اور خطرناک حالات کی طرف امام ابو داؤد سے مروی درج ذیل حدیث مبارکہ اشارہ کرتی ہے :

عَنْ عَبْد اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ : کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ : يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَة الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ : هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.

أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4 : 94، رقم : 4242

’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ اَحلاس کا ذکر فرمایا۔ کسی نے سوال کیا کہ یارسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ افرا تفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *