Why Non Muslims are Not Allowed to Enter in Makkah and Madina



Why non Muslims are not allowed to enter in Makkah and Madina

Reference from Quran:

O you who have believed, indeed the polytheists are unclean, so let them not approach al-Masjid al-Haram after this, their [final] year. And if you fear privation, Allah will enrich you from His bounty if He wills. Indeed, Allah is Knowing and Wise.

مومنو! مشرک تو پلید ہیں تو اس برس کے بعد وہ خانہٴ کعبہ کا پاس نہ جانے پائیں اور اگر تم کو مفلسی کا خوف ہو تو خدا چاہے گا تو تم کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا۔ بےشک خدا سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

Reference: Surat At-Tawbah – Verse 28

Further in Urdu:

سوال
 غیر مسلم مکّہ مکرمہ میں کیوں داخل نہیں ہو سکتے ؟

آپ بذریعہ سڑک کسی بھی جانب سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوں تو حدود حرم کے آغاز سے کچھ پہلے سڑکوں پر جلی حروف میں بار بار یہ الفاظ تحریر نظر آتے ہیں کہ ”غیر مسلم کا مکّہ کی حدود میں داخلہ منع اور فقط مسلمین مکّہ میں داخل ہو سکتے ہیں ”

اور پھر وہ مقام آ ہی جاتا ہے جہاں یہ سائیں بورڈ آویزاں ہے جو آپکو تصویر میں نظر آرہا ہے جس میں حتمی طور سے اس بات کی نشاندھی کی گئی ہے کہ غیر مسلمین داہنے ہاتھہ کی جانب ” طائف ” کی جانب مڑ جائیں جسکو میں نے لال تیر سے واضح کیا ہے جبکہ مسلمین بائیں جانب ، مکّہ مکرمہ کی طرف مڑ سکتے ہیں جسکی نشاندھی میں نے نیلے تیر سے کی ہے – گویا یہ وہ نقطہ آخر ہے جہاں سے مسلمانوں اور غیر مسلیمین کی راہیں جدا ہونا لازمی ہیں –

ہم سب جانتے ہیں کہ مکّہ کی طاہر فضاؤں میں صرف کلمہ گو اہل ایمان ہی داخل ہو سکتے ہیں کسی نجس کا اس پاک شہر میں داخلہ شرعا ” ممنوع ہے اور اس وجہ سے مکّہ مکرمہ کے اطراف میں موجود تمام ایکسپریس ویز پر ایسے انتباہی بورڈ آویزاں ہیں –

غیر مسلموں پر رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم نے سن 9 ہجری میں یہ پابندی لگائی تھی جو آج تک الحمد الله برقرار ہے –
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ و الیہ وسلم نے یہ پابندی کیوں لگائی تھی ؟ آخر اس پابندی کو لگانے کی وجہ کیا تھی ؟

جواب

سن 8 ہجری میں فتح کے بعد جب پورے مکّہ مکرمہ میں مسلمانوں کا مکمل غلبہ ہوگیا تو سن 9 ہجری میں الله سبحان و تعالی نے خاص آیت نازل فرمائیں جس میں حکم دیا گیا کہ نجس مشرکین کو مسجد الحرام کے پاس پھٹکنے نہ دو – یہ آیت قرآن حکیم کی سوره توبہ کی آیت نمبر 28 ہے جو پارہ نمبر 10 میں ہے ، جس کا اردو ترجمہ کچھہ یوں ہے :-

” اے ایمان والو، مشرک بالکل ہی ناپاک ہیں – وہ اس سال کے بعد مسجد الحرام کے پاس بھی بھٹکنے نہ پائیں- اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہو تو الله تمہیں دولت مند کردے گا – اپنے فضل سے اگر چاہے ، الله علم و حکمت والا ہے ”

قران پاک میں الله سبحان و تعالی کے ان واضح احکامات کے بعد رسول الله صلی الله علیہ و آلیہ وسلم نے مشرکوں اور کفّار پر مسجد الحرام یعنی مکّہ مکرمہ کی حدود میں داخلے پر پابندی لگا دی جو الحمد الله 1400 سال سے زاید عرصۂ گزرجانے کے باوجود اب تک الله کی مدد اور رحمت سے قایم و دائم ہے اور انشاء الله قیامت تک برقرار رہے گی –

مدینہ المنورہ بھی کیونکہ رسول الله صلی الله علیہ و آلیہ وسلم کا حرم ہے اور آپ صلی الله علیہ و آلیہ وسلم مجسم وہاں موجود ہیں تو اسکی عظمت ، پاکدامنی اور حرمت کا تقاضہ ہے کہ وہاں کی طاہر فضاؤں میں بھی نجس لوگ داخل نہ ہوں – اسلئے مدینہ منورہ میں بھی یہ پابندی لگائی گئی ہے

One thought on “Why Non Muslims are Not Allowed to Enter in Makkah and Madina

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *