Travel Through The Land And Observe How Was The End Of The Criminals



Travel Through The Land And Observe How Was The End Of The Criminals

وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَإِذَا كُنَّا تُرَابًا وَآبَاؤُنَا أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَحْنُ وَآبَاؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ
قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِين
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُن فِي ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ

English Translation :

“And those who disbelieve say, “When we have become dust as well as our forefathers, will we indeed be brought out [of the graves]? We have been promised this, we and our forefathers, before. This is not but legends of the former peoples.”Say, [O Muhammad], “Travel through the land and observe how was the end of the criminals.” And grieve not over them or be in distress from what they conspire.”

Urdu Translation :

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اُٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہےاور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ اُن چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا

[Surat An-Naml # 67-70]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *